Taif City the Gate of Abdullah bin Abbas

Hazrat Abdullah bin Abbas was the cousin of the Last Islamic Prophet Muhammad (Peace be Upon Him) and he is the Greatest mufassir of Qur’an.

He was the son of Abbas ibn Abd al-Muttalib, an uncle of the Muhammad, and a nephew of Maymunah bint al-Harith, who later became Muhammad’s wife (Umm ul Momineen)

Baab e Abdullah bin Abbas in Taif City

Abdullah bin Abbas was famous for his knowledge of traditions and his critical interpretation of the Qur’an. From early on, he gathered information from other Sahaba of Muhammad and gave classes and wrote commentaries.

The father of Abdullah bin Abbas and the father of Last Prophet Muhammad (Peace be Upon Him) were both sons of  ‘Abdu’l-Muṭṭalib. Shaiba bin Hashim’s father was Hashim ibn Abd Manaf, the progenitor of the Banu Hashim clan of the Quraish tribe in Makkah.

Taif City
Hadith of the pen and paper

In AH 10 (631/632),  The Last Prophet Muhammad (Peace be Upon Him) fell into his last illness. During this period, the Hadith of the pen and paper was reported, with Abdullah bin Abbas as the first-level narrator. Days after that, Abdullah bin Abbas and Hazrat Ali (4th Caliph of Islam) supported Muhammad’s weight on their shoulder, as Muhammad (Peace be Upon Him) was too weak to walk unaided.

Advice of Prophet Muhammad (Peace be Upon Him)

One day Abdullah Ibn Abbas was behind the Prophet and He said to him:

“Young man, I shall teach you some words (of advice). Be mindful of Allah, and Allah will protect you. Be mindful of Allah, and you will find Him in front of you. If you ask, ask of Allah; if you seek help, seek help of Allah.

Know that if the nation were to gather together to benefit you with anything, it would benefit you only with something that Allah had already prescribed for you.

And if they gather together to harm you with anything, they would harm you only with something Allah had already prescribed for you.

The pens have been lifted and the pages have dried.” (from Tirmidhi)

 

 

آپ کا نام عبد اللہ، ابوالعباس کنیت تھی۔ آپ کے والد کا نام عباس بن عبدالمطلب اور والدہ کا نام ام الفضل لبابہ تھا۔

عبد اللہ ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے 3 برس قبل شعب ابی طالب میں محصوریت کے دوران میں ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش کے بعد عبد اللہ ابن عباس آپ کو بارگاہِ رسالت میں لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈال کر آپ کے حق میں دعا فرمائی۔

آپ کے والد عباس نے اگرچہ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا، لیکن آپ کی والدہ اُم الفضل نے ابتدا میں ہی داعی توحید کو لبیک کہا تھا۔ اس لیے آپ کی پرورش توحید کے سائے میں ہوئی۔

عبد اللہ بن عباس 8 ہجری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 11 سال تھی۔ آپ اپنے والد کے حکم سے بیشتر اوقات بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتے تھے۔

آپ کی مصاحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو زمانہ پایا، دراصل وہ آپ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ تاہم آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت میں اکثر رہتے۔ ام المومنین میمونہ آپ کی خالہ تھیں اور آپ سے بہت شفقت رکھتیں تھیں اس لیے آپ اکثر ان کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور کئی مرتبہ رات میں ان کے گھر پر ہی سو جاتے تھے۔ اس طرح ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کا بہترین موقع میسر تھا۔

اسی طرح ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لیے بیدار ہوئے تو عبد اللہ بن العباس نے وضو کے لیے پانی لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو سے فراغت کے بعد پوچھا کے پانی کون لایا تھا۔ سیدہ میمونہ نے عبد اللہ بن عباس کا نام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو کر یہ دعا دی۔

اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ‎ ​
یعنی اے اللہ اس کو مذہب کا فقیہ بنا اور تاویل کا طریقہ سکھا

Travel & Tourism